ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / شاذ و نادر بیماری میں مبتلا بھٹکل کی بچی کے علاج کے لئے 16 کروڑ روپے کی مفت دوائی کا نکلا قرعہ

شاذ و نادر بیماری میں مبتلا بھٹکل کی بچی کے علاج کے لئے 16 کروڑ روپے کی مفت دوائی کا نکلا قرعہ

Wed, 17 Feb 2021 18:26:45    S.O. News Service

بھٹکل:17؍فروری (ایس اؤ نیوز) اسپائنل موسکولر  ایٹروفی  (ایس ایم اے) Spinal Muscular Atrophy   نامی خطرناک اور شاذ ونادر   بیماری میں مبتلا 14 ماہ کی بچی  کے پریشان  والدین کو اُس وقت راحت ملی جب ایک دوائی کی کمپنی کی طرف سے   16 کروڑ قیمت کی دوائی کا قرعہ ان کی بچی کے نام نکلا۔اس قرعہ  کے ساتھ ہی بچی کی جان بچنے کی اُمید اب نظر آرہی ہے۔

بھٹکل  آزاد نگر کے رہنے والے محمد باسل  اکرمی  اور خدیجہ  کی 14 ماہ کی بچی  فاطمہ ، عجیب قسم کے موروثی مرض پیٹھ کے پٹھوں کی کمزوری  میں مبتلا ہے جس کا علاج قریب ڈیڑھ سال قبل ہی دریافت ہوا ہے اور اس علاج کے لئے دوائی کی قیمت 16 کروڑ روپئے ہے، ظاہر بات ہے کہ مڈل کلاس فیملی کےلئے اتنی بڑی رقم جٹاپانا ممکن نہیں ہے، مگر امریکی دوائی کمپنی نوارٹِس کی طرف سے  سال میں ایک مرتبہ  قرعہ نکالاجاتا ہے جس کے تحت  جس مریض کے نام قر عہ نکلتا ہے، اُسے 16 کروڑ کی متعلقہ دوائی فری میں دی جاتی ہے۔ 

بچی کے والد  محمد باسل   نے ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے  بتایا کہ  اس کا پہلا بچہ بھی اسی بیماری میں مبتلا تھا مگر اُس وقت اس بیماری کا علاج دریافت نہیں ہوا تھا جس کی وجہ سے بچہ  ساڑھے تین سال کی عمر میں مارچ   2019 میں ہی فوت ہوگیا، اب  جب بچی پیدا ہوئی تو  تین ماہ ہوتے ہی  پتہ چل گیا کہ اس بچی کو بھی وہی مرض لاحق ہے، کمزوری کے باعث  بچی   کا ہاتھ ٹھیک  سے  کام نہیں کرتا، بچی اپنی گردن سیدھی نہیں کرسکتی یہاں تک کہ سانس لینے میں بھی  اسے دشواری پیش آتی ہے، ہم   نے بچی کے علاج کے لئے پہلے  منی پال  کے ایم سی اسپتال کو  رجوع  کیا، یہاں  جانچ کرانے پر تصدیق ہوئی کہ یہ بچی بھی اُسی مرض  یعنی ایس ایم اے کی بیماری میں مبتلا ہے۔

باسل  نے بتایا کہ ایس ایم اے  بیماری میں مبتلا ہونے کا پتہ چلتے ہی ہم نے بنگلور میں  باپٹیسٹ اسپتال سے رجوع کیا، وہاں ڈاکٹروں نے ماہ اگست میں  اس بیماری کے علاج کےلئے  تین کمپنیوں کو خطوط روانہ کئے  اور دوائی کی درخواست بھیجی،  ڈاکٹروں نے بتایا کہ ایک کمپنی کی دوائی دیڑھ کروڑ  روپئے میں دستیاب ہے، مگر یہ دوائی بار بار دینے کی ضرورت پڑتی ہے، دوسری کمپنی کی دوائی ہر چھ ماہ میں دینے کی ضرورت پڑتی ہے جس کی قیمت سات کروڑ روپئے ہے، جبکہ امریکہ کی  Novartis  کمپنی  کی Zolgensma  نامی   دوائی کی قیمت 16 کروڑ روپئے ہے، اور یہ دوائی صرف ایک بار دینا کافی ہوتا ہے۔ Novartis دوائی کی کمپنی کی طرف سے ہرسال  ایک  بچے کے لئے قرعہ نکالا جاتا ہے اور جس کسی کے نام یہ قرعہ نکلتاہے اُسے یہ دوائی بالکل مفت فراہم کی جاتی ہے۔ اللہ کا ہم پر بڑا کرم ہوا کہ اس بار اس  دوائی کا قرعہ  ہماری بچی کے نام نکلا۔

باپٹیسٹ  اسپتال کے ڈاکٹروں کے ذریعے پتہ چلا کہ  دوائی دریافت ہونے کے بعد گذشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں کرناٹکا میں  اس مرض میں مبتلا   38  نوزائیدہ   بچوں کی موت واقع ہوچکی ہے کیونکہ والدین  اس بے حد مہنگی دوائی کو  خرید نہیں پائے تھے، ڈاکٹروں کی مانیں تو   ابھی بھی بنگلور کے  باپٹیسٹ   اسپتال میں کرناٹکا کے کم و بیش دو سو بچے علاج کررہے ہیں، مگر اتنی مہنگی دوائی خریدنے کی اُن کے والدین   میں سکت نہیں ہے جس  کی وجہ سے  بہت سارے والدین اپنے بچوں کی شفایابی کو لے کر مایوسی کے شکار ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ متعلقہ دوائی یا انجکشن  تیارہونےکے 14دنوں کے اندر اس کا استعمال ہوناچا ہئے۔  امریکہ میں  نکالی گئی قرعہ اندازی  میں دوائی مفت  ملنے کی اطلاع پہنچتے ہی دبئی کی ایک کمپنی میں ملازمت کرنے والے محمد باسل   کمپنی سے چھٹی لے کر بنگلور پہنچے  اور اللہ کا شکر بجالاتے ہوئے  دوائی  کا انتظارکرنےلگے۔ امریکہ میں تیار کردہ  یہ   دوائی  امریکہ سے جب   بنگلور پہنچی  تو کسٹم افسران نے اس کو روک لیا، جس سے ڈاکٹر بھی بہت پریشان ہوگئے۔  ڈاکٹروں نے بتایا کہ  دوائی اسپتال پہنچنے میں ایک دن کی بھی تاخیر ہوتی تو 16کروڑ روپئے کی دوائی بیکار ہوجاتی اور بے بس  والدین بچے کاعلاج نہ ہونے سےمزید پریشان ہوجاتے۔ کسٹم افسران بھی قانون کے مطابق  16کروڑروپئے کی دوائی ٹیکس کے بغیر نہیں دے سکتے تھے۔ جس کی وجہ سے باسل کو کئی ایک دفاتر کے چکر کاٹنے پڑے ، کافی کوششوں اور دوڑدھوپ کے بعد بالاخر دوائی حاصل ہوئی اورگذشتہ روز  متعلقہ  انجکشن بچی کو  دیا گیا۔ باسل  کے مطابق  ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ انجکشن دینے کے  دو ماہ بعد اثرات نظر آئیں گے۔اس تعلق سے  باسل  نے  عوام الناس سے بھی  درخواست کی ہے  کہ وہ  بچی کی صحت یابی کے لئے دعا کریں۔ 


Share: